Peshe Haq Muzda Shafaat Ka Lyrics – Alahazrat Naat

یہ بھی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ایک اور بے حد مقبول، وجد آفرین اور ایمان افروز نعتیہ کلام ہے۔ اس کلام کا مرکزی موضوع “شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ” اور میدانِ محشر میں حضور اکرم ﷺ کی امت پر بے پناہ رحمت و کرم ہے۔

اس پورے کلام کا متن اور اس کی مکمل تفصیلات تینوں زبانوں (رومن اردو، ہندی، اور اردو) میں نیچے دی گئی ہیں

1. Peshe Haq Muzda Shafaat Ka LyricsRoman Urdu (رومن اردو)

Peshe haq muzda shafaat ka sunate jayenge

Aap rote jayenge hum ko hansate jayenge

Dil nikal jaane ki jaa hai aah kin aankhon se woh

Hum se pyaason ke liye darya bahate jayenge

Kushtagan-e-garmi-e-mahshar ko woh jaan-e-maseeh

Aaj daaman ki hawa de kar jilate jayenge

Gul khile ga aaj yeh un ki naseem-e-faiz se

Khoon rote aayenge hum muskurate jayenge

Haan chalo hasrat zado sunte hain woh din aaj hai

Thi khabar jis ki ke woh jalwa dikhate jayenge

Aaj eed-e-aashiqan hai gar khuda chahe ke woh

Abrooy-e-paivasta ka aalam dikhate jayenge

Kuch khabar bhi hai faqiro aaj woh din hai ke woh

Nemat-e-khuld apne sadqe mein lutate jayenge

Khaak uftado bas un ke aane hi ki der hai

Khud woh gir kar sajda mein tum ko uthate jayenge

Wusatein di hain khuda ne daaman-e-mahboob ko

Jurm khulte jayenge aur woh chhupate jayenge

Lo woh aaye muskurate hum aseeron ki taraf

Kharman-e-isyaan par ab bijli girate jayenge

Aankh kholo gamzado dekho woh giryan aaye hain

Lauh-e-dil se naqsh-e-gam ko ab mitate jayenge

Soxta jaanon pe woh pur josh rahmat aaye hain

Aab-e-kausar se lagi dil ki bujhate jayenge

Aaftab un ka hi chamke ga jab auron ke chiragh

Sarsar-e-josh-e-bala se jhilmilate jayenge

Paaye kooban pul se guzrenge tiri aawaz par

Rabb-e-Sallim ki sada par wajd laate jayenge

Sarwar-e-deen lije apne natawanon ki khabar

Nafs-o-shaitan sayyada kab tak dabate jayenge

Hashr tak daalenge hum paidaish-e-maula ki dhoom

Misl-e-faris najd ke qile girate jayenge

Khaak ho jayenge adu jal kar magar hum to Raza

Dam mein jab tak dam hai zikr un ka sunate jayenge

2. Peshe Haq Muzda Shafaat Ka Lyrics in Hindi (हिंदी)

पेश-ए-हक़ मुज़्दा शफ़ाअत का सुनाते जाएँगे

आप रोते जाएँगे हम को हँसाते जाएँगे

दिल निकल जाने की जा है आह किन आँखों से वह

हम से प्यासों के लिए दरिया बहाते जाएँगे

कुश्तगान-ए-गर्मी-ए-महशर को वह जान-ए-मसीह

आज दामन की हवा दे कर जिलाते जाएँगे

गुल खिलेगा आज यह उन की नसीम-ए-फ़ैज़ से

ख़ून रोते आएँगे हम मुस्कुराते जाएँगे

हाँ चलो हसरत ज़दो सुनते हैं वह दिन आज है

थी ख़बर जिस की कि वह जल्वा दिखाते जाएँगे

आज ईद-ए-आशिक़ाँ है गर ख़ुदा चाहे कि वह

अबरू-ए-पैवस्ता का आलम दिखाते जाएँगे

कुछ ख़बर भी है फ़क़ीरो आज वह दिन है कि वह

नेअमत-ए-ख़ुल्द अपने सदक़े में लुटाते जाएँगे

ख़ाक उफ़्तादो बस उन के आने ही की देर है

खुद वह गिर कर सज्दा में तुम को उठाते जाएँगे

वुसअतें दी हैं ख़ुदा ने दामन-ए-महबूब को

जुर्म खुलते जाएँगे और वह छुपाते जाएँगे

लो वह आए मुस्कुराते हम असीरों की तरफ़

ख़रमन-ए-इस्याँ पर अब बिजली गिराते जाएँगे

आँख खोलो ग़मज़दो देखो वह गिर्यां आए हैं

लौह-ए-दिल से नक़्श-ए-ग़म को अब मिटाते जाएँगे

सोख़्ता जानों पे वह पुर जोश रहमत आए हैं

आब-ए-कौसर से लगी दिल की बुझाते जाएँगे

आफ़्ताब उन का ही चमकेगा जब औरों के चिराग़

सर्सर-ए-जोश-ए-बला से झिलमिलाते जाएँगे

पाए कूबँ पुल से गुज़रेंगे तिरी आवाज़ पर

रब्ब-ए-सल्लिम की सदा पर वज्द लाते जाएँगे

सरवर-ए-दीन लीजे अपने नातवानों की ख़बर

नफ़्स ओ शैताँ सय्यदा कब तक दबाते जाएँगे

हशर तक डालेंगे हम पैदाइश-ए-मौला की धूम

मिस्ल-ए-फ़ारिस नज्द के क़िले गिराते जाएँगे

ख़ाक हो जाएँगे अदू जल कर मगर हम तो रज़ा

दम में जब तक दम है ज़िक्र उन का सुनाते जाएँगे

3. Peshe Haq Muzda Shafaat Ka Lyrics in Urdu (اُردو)

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ

ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے

کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح

آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے

گل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے

خون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے

ہاں چلو حسرت زدو سُنتے ہیں وہ دن آج ہے

تھی خبر جس کی کہ وہ جَلوہ دِکھاتے جائیں گے

آج عیدِ عاشِقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ

ابروئے پیوستہ کا عالَم دِکھاتے جائیں گے

کُچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ

نعمتِ خلد اپنے صَدقے میں لُٹاتے جائیں گے

خاک اُفتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے

خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اُٹھاتے جائیں گے

وُسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو

جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف

خرمنِ عِصیاں پر اب بجلی گراتے جائیں گے

آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گِریاں آئے ہیں

لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مِٹاتے جائیں گے

سوختہ جانوں پہ وہ پُر جوش رحمت آئے ہیں

آب کوثر سے لگی دِل کی بجھاتے جائیں گے

آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اَوروں کے چراغ

صرصرِ جوشِ بلا سے جِھلملاتے جائیں گے

پائے کُوباں پُل سے گزریں گے تِری آواز پر

رَبِّ سَلِّمْ کی صَد ا پر وَجد لاتے جائیں گے

سرورِ دین لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر

نفس و شیطاں سیّدا کب تک دَباتے جائیں گے

حشر تک ڈالیں گے ہم پَیدائشِ مولیٰ کی دُھوم

مثل فارِس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ

دَم میں جب تک دَم ہے ذِکر اُن کا سُناتے جائیں گے

💡 کلام کا سب سے مشہور شعر (تشریح کے لیے)

یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا بے حد ایمان افروز اور عقیدت سے لبریز نعتیہ کلام ہے، جس کا مرکزی موضوع “میدانِ محشر اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ” ہے۔ اس پورے کلام میں آقا کریم ﷺ کی اپنی امت پر بے پناہ رحمت، شفقت اور بخشش کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

ذیل میں اس پورے کلام کی تفصیلی تشریح پیش ہے:

1۔ پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

تشریح: میدانِ محشر میں جہاں نفسی نفسی کا عالم ہوگا، وہاں حضور اکرم ﷺ بارگاہِ الٰہی (حق) میں سجدہ ریز ہو کر اپنی امت کی بخشش کے لیے مژدہ (خوشخبری) سنائیں گے۔ وہ امت کے غم میں روتے جائیں گے اور آقا ﷺ کے رونے کی برکت سے ہم جیسے گناہ گاروں کو مغفرت کی خوشی ملے گی اور ہم ہنستے (مسکراتے) ہوئے جنت کی طرف جائیں گے۔

2۔ دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ

ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے

تشریح: محشر کی گرمی اور پیاس کی شدت ایسی ہوگی کہ خوف سے دل باہر آنے کو ہوگا۔ ایسے نازک وقت میں آقا ﷺ اپنی رحمت بھری آنکھوں سے اشکوں کے دریا بہا کر اللہ کی رحمت کو جوش میں لائیں گے اور ہم جیسے پیاسے امتیوں کی داد رسی فرمائیں گے۔

3۔ کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح

آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے

تشریح: محشر کی تپش اور سورج کی گرمی سے لوگ بے حال اور مردہ ہو رہے ہوں گے۔ وہاں آقا ﷺ (جو روحانی طور پر عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مردوں کو زندہ کرنے والے یعنی ‘جانِ مسیح’ ہیں) اپنے دامنِ کرم کی ہوا دے کر مرجھائے ہوئے امتیوں کو نئی زندگی اور سکون عطا فرمائیں گے۔

4۔ گل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے

خون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے

تشریح: محشر کے دن جب گناہ گار اپنے گناہوں کی وجہ سے ندامت کے خون کے آنسو رو رہے ہوں گے، تب آقا ﷺ کی فیض کی ٹھنڈی ہوا چلے گی اور ایک نیا گل کھلے گا—یعنی ہماری مایوسی امید میں بدل جائے گی اور ہم مسکرانے لگیں گے۔

5۔ ہاں چلو حسرت زدو سُنتے ہیں وہ دن آج ہے

تھی خبر جس کی کہ وہ جَلوہ دِکھاتے جائیں گے

تشریح: اعلیٰ حضرت تمام ناامید اور حسرت کے مارے ہوئے لوگوں کو مژدہ سناتے ہیں کہ چلو! آج وہی دن ہے جس کا دنیا میں انتظار تھا کہ آقا ﷺ میدانِ محشر میں اپنی شانِ کریمی کا جلوہ دکھا کر امت کی لاج رکھیں گے۔

6۔ آج عیدِ عاشِقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ

ابروئے پیوستہ کا عالَم دِکھاتے جائیں گے

تشریح: عاشقوں کے لیے محشر کا دن خوف کا نہیں بلکہ عید کا دن بن جائے گا، کیونکہ اللہ کے فضل سے آج آقا ﷺ کے رخِ انور اور ان کے ابروئے مبارک (بھنویں) کا وہ حسین نظارہ دیکھنے کو ملے گا جو دلوں کو نہال کر دے گا۔

7۔ کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ

نعمتِ خلد اپنے صَدقے میں لُٹاتے جائیں گے

تشریح: اے دنیا کے گداگروں اور درِ رسول کے فقیروں! تمہیں معلوم ہے کہ آج محشر کا دن ہے جہاں آقا ﷺ اللہ کی دی ہوئی جنت کی تمام نعمتیں اپنے صدقے اور طفیل میں دل کھول کر لٹائیں گے۔

8۔ خاک اُفتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے

خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اُٹھاتے جائیں گے

تشریح: اے خاک میں ملے ہوئے عاجز اور گناہ گار لوگو! مایوس مت ہو، بس آقا ﷺ کی تشریف آوری کی دیر ہے۔ وہ بارگاہِ الٰہی میں امت کی بخشش کے لیے خود سجدے میں گر جائیں گے اور جب تک ہم جیسے گرے ہوؤں کو اٹھا کر بخشوا نہیں لیں گے، سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے۔

9۔ وُسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو

جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

تشریح: اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے دامنِ کرم کو بے پناہ وسعت اور پھیلاؤ عطا کیا ہے۔ محشر کی عدالت میں جیسے جیسے ہمارے نامۂ اعمال سے گناہ اور جرم ظاہر ہوتے جائیں گے، آقا ﷺ اپنے دامنِ رحمت میں انہیں چھپاتے چلے جائیں گے۔

10۔ لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف

خرمنِ عِصیاں پر اب بجلی گراتے جائیں گے

تشریح: دیکھو! وہ گناہوں کے دلدل میں قید ہم جیسے اسیروں (قیدیوں) کی طرف مسکراتے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اب ان کی آمد ہمارے گناہوں کے ڈھیر (خرمنِ عصیاں) پر بجلی بن کر گرے گی، یعنی گناہ مٹ جائیں گے اور نیکیاں باقی رہ جائیں گی۔

11۔ آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گِریاں آئے ہیں

لوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مِٹاتے جائیں گے

تشریح: اے غم کے مارے امتیوں! ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو، وہ امت کے غم میں رونے والے آقا ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ اب وہ ہمارے دلوں سے خوف اور غم کا ہر ایک نقش ہمیشہ کے لیے مٹا دیں گے۔

12۔ سوختہ جانوں پہ وہ پُر جوش رحمت آئے ہیں

آب کوثر سے لگی دِل کی بجھاتے جائیں گے

تشریح: جن کی جانیں محشر کی گرمی سے جھلس چکی ہیں (سوختہ جانوں)، ان کے لیے سراپا رحمت مصطفیٰ ﷺ جوش کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور وہ حوضِ کوثر کے ٹھنڈے پانی سے امتیوں کے دلوں کی پیاس بجھاتے جائیں گے۔

13۔ آفتاب اُن کا ہی چمکے گا جب اَوروں کے چراغ

صرصرِ جوشِ بلا سے جِھلملاتے جائیں گے

تشریح: جب محشر کی ہولناکی اور مصیبت کی تیز ہوا (صرصر) چلے گی اور بڑے بڑوں کے چراغ جِھلملا کر بجھ رہے ہوں گے، اس وقت بھی صرف اور صرف میرے آقا ﷺ کی عظمت اور شفاعت کا آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہوگا۔

14۔ پائے کُوباں پُل سے گزریں گے تِری آواز پر

رَبِّ سَلِّمْ کی صَد ا پر وَجد لاتے جائیں گے

تشریح: جب امتی پل صراط سے گزر رہے ہوں گے، تو آقا ﷺ کی امت کے لیے تڑپ اور “رَبِّ سَلِّمْ” (اے رب! انہیں سلامت گزار دے) کی آواز سن کر امتی خوشی سے جھومتے اور وجد کرتے ہوئے آسانی سے پل صراط پار کر جائیں گے۔

15۔ سرورِ دین لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر

نفس و شیطاں سیّدا کب تک دَباتے جائیں گے

تشریح: یہاں اعلیٰ حضرت استغاثہ پیش کرتے ہیں کہ اے دین کے مالک و سرور! اپنے ان کمزور اور ناتوان امتیوں کی خبر لیجیے۔ یہ نفس اور شیطان ہمیں آخر کب تک گمراہی کے دلدل میں دباتے رہیں گے؟ اب آپ ہی ہماری دستگیری فرمائیے۔

16۔ حشر تک ڈالیں گے ہم پَیدائشِ مولیٰ کی دُھوم

مثل فارِس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے

تشریح: ہم دنیا میں صبحِ قیامت تک اپنے مولیٰ ﷺ کی ولادت (میلاد) کی دھوم مچاتے رہیں گے، اور جس طرح اسلام کی آمد پر فارس (ایران) کے کفر کے محل گر گئے تھے، اسی طرح ہم اپنے عشق کی طاقت سے بدعتیوں اور گستاخوں کے نظریاتی قلعے گراتے جائیں گے۔

17۔ خاک ہو جائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضاؔ

دَم میں جب تک دَم ہے ذِکر اُن کا سُناتے جائیں گے

تشریح: مقطع میں اعلیٰ حضرت اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آقا ﷺ کے دشمن (عدو) چاہے حسد کی آگ میں جل کر خاک ہو جائیں، ہمیں ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اے رضا! جب تک ہمارے جسم میں آخری سانس باقی ہے، ہم اپنے پیارے آقا ﷺ کی نعتیں اور ان کا ذکرِ خیر دنیا کو سناتے ہی جائیں گے۔

यहाँ आला हज़रत इमाम अहमद रज़ा ख़ान बरेलवी अलैहिर्रहमा के इस मुक़द्दस नातिया कलाम की मुकम्मल तशरीफ़ (व्याख्या) हिंदी में पेश है, जिसका मुख्य विषय मैदानमहशर और शफ़ाअतमुस्तफ़ा (सल्लल्लाहु अलैहि सल्लम)” है:

पेशहक़ मुज़्दा शफ़ाअत का सुनाते जाएँगे

आप रोते जाएँगे हम को हँसाते जाएँगे

तशरीह: मैदान-ए-महशर (कयामत के दिन) जहाँ हर कोई अपनी फ़िक्र में होगा, वहाँ अल्लाह के महबूब ﷺ अल्लाह की बारगाह (हक़) में सज्दा करके अपनी उम्मत की बख़्शिश (माफ़ी) की ख़ुशख़बरी सुनाएंगे। आक़ा ﷺ उम्मत के ग़म में रोते जाएंगे और उनके रोने की बरकत से हम जैसे गुनहगारों को माफ़ी मिलेगी और हम मुस्कुराते हुए जन्नत की तरफ़ जाएंगे।

दिल निकल जाने की जा है आह किन आँखों से वह

हम से प्यासों के लिए दरिया बहाते जाएँगे

तशरीह: महशर की भयानक गर्मी और प्यास की शिद्दत ऐसी होगी कि डर के मारे दिल बाहर आने को होगा। ऐसे नाज़ुक वक़्त में आक़ा ﷺ अपनी रहमत भरी आँखों से आंसुओं के दरिया बहाकर अल्लाह की रहमत को जोश में लाएंगे और हम जैसे प्यासे उम्मतियों की मदद फ़रमाएंगे।

कुश्तगानगर्मीमहशर को वह जानमसीह

आज दामन की हवा दे कर जिलाते जाएँगे

तशरीह: महशर की तपन और सूरज की गर्मी से लोग बेहाल और मरे हुए के समान हो रहे होंगे। वहाँ आक़ा ﷺ (जो आध्यात्मिक रूप से ईसा अलैहिस्सलाम की तरह मुर्दों को ज़िंदा करने वाले यानी ‘जान-ए-मसीह’ हैं) अपने दामन-ए-करम की हवा दे कर मुरझाए हुए उम्मतियों को नई ज़िंदगी और सुकून अता फ़रमाएंगे।

गुल खिलेगा आज यह उन की नसीमफ़ैज़ से

ख़ून रोते आएँगे हम मुस्कुराते जाएँगे

तशरीह: कयामत के दिन जब गुनहगार अपने गुनाहों की वजह से शर्मिंदगी के मारे ख़ून के आँसू रो रहे होंगे, तब आक़ा ﷺ की फ़ैज़ की ठंडी हवा (नसीम-ए-फ़ैज़) चलेगी और एक नया फूल खिलेगा—यानी हमारी मायूसी उम्मीद में बदल जाएगी और हम मुस्कुराने लगेंगे।

हाँ चलो हसरत ज़दो सुनते हैं वह दिन आज है

थी ख़बर जिस की कि वह जल्वा दिखाते जाएँगे

तशरीह: आला हज़रत तमाम नासमझ, मायूस और हसरत के मारे हुए लोगों को ख़ुशख़बरी सुनाते हैं कि चलो! आज वही दिन है जिसका दुनिया में इंतज़ार था कि आक़ा ﷺ मैदान-ए-महशर में अपनी शान-ए-करीमी का जलवा दिखाकर उम्मत की लाज़ रखेंगे।

आज ईदआशिक़ाँ है गर ख़ुदा चाहे कि वह

अबरूपैवस्ता का आलम दिखाते जाएँगे

तशरीह: आशिकों के लिए महशर का दिन डर का नहीं बल्कि ईद का दिन बन जाएगा, क्योंकि अल्लाह के फ़ज़्ल से आज आक़ा ﷺ के रुख़-ए-अनवर (नूरानी चेहरे) और उनकी ख़ूबसूरत भोहों (अबरू-ए-पैवस्ता) का वह हसीन नज़ारा देखने को मिलेगा जो दिलों को सराबोर कर देगा।

कुछ ख़बर भी है फ़क़ीरो आज वह दिन है कि वह

नेअमतख़ुल्द अपने सदक़े में लुटाते जाएँगे

तशरीह: ऐ दुनिया के मँगतों और दर-ए-रसूल के फ़क़ीरों! तुम्हें मालूम है कि आज महशर का वह दिन है जहाँ आक़ा ﷺ अल्लाह की दी हुई जन्नत की तमाम नेअमतें (सुख-सुविधाएँ) अपने सदक़े और वसीले से दिल खोलकर लुटाएंगे।

ख़ाक उफ़्तादो बस उन के आने ही की देर है

खुद वह गिर कर सज्दा में तुम को उठाते जाएँगे

तशरीह: ऐ ख़ाक में मिले हुए आजिज़ और गुनहगार लोगो! मायूस मत हो, बस आक़ा ﷺ के तशरीफ़ लाने की देर है। वह बारगाह-ए-इलाही में उम्मत की बख़्शिश के लिए ख़ुद सज्दे में गिर जाएंगे और जब तक हम जैसे गिरे हुओं को उठाकर बख़्शवा नहीं लेंगे, सज्दे से सिर नहीं उठाएंगे।

वुसअतें दी हैं ख़ुदा ने दामनमहबूब को

जुर्म खुलते जाएँगे और वह छुपाते जाएँगे

तशरीह: अल्लाह तआला ने अपने महबूब ﷺ के दामन-ए-करम को बहुत बड़ी वुसअत (विस्तार और फैलाव) अता की है। महशर की अदालत में जैसे-जैसे हमारे नाम-ए-अमाल से गुनाह और जुर्म सामने आते जाएंगे, आक़ा ﷺ अपने दामन-ए-रहमत में उन्हें छुपाते चले जाएंगे।

लो वह आए मुस्कुराते हम असीरों की तरफ़

ख़रमनइस्याँ पर अब बिजली गिराते जाएँगे

तशरीह: देखो! वह गुनाहों के दलदल में क़ैद हम जैसे असीरों (क़ैदियों) की तरफ़ मुस्कुराते हुए तशरीफ़ ला रहे हैं। अब उनका आना हमारे गुनाहों के ढेर (ख़रमन-ए-इस्याँ) पर बिजली बनकर गिरेगा, यानी गुनाह मिट जाएंगे और सिर्फ़ नेकियाँ बाकी रह जाएंगी।

आँख खोलो ग़मज़दो देखो वह गिर्यां आए हैं

लौहदिल से नक़्शग़म को अब मिटाते जाएँगे

तशरीह: ऐ ग़म के मारे उम्मतियों! ज़रा आँखें खोलकर देखो, वह उम्मत के ग़म में रोने वाले आक़ा ﷺ तशरीफ़ ले आए हैं। अब वह हमारे दिलों से डर और ग़म का हर एक निशान हमेशा के लिए मिटा देंगे।

सोख़्ता जानों पे वह पुर जोश रहमत आए हैं

आबकौसर से लगी दिल की बुझाते जाएँगे

तशरीह: जिनकी जानें महशर की गर्मी से झुलस चुकी हैं (सोख़्ता जानों), उनके लिए सरापा रहमत मुस्तफ़ा ﷺ पूरे जोश के साथ तशरीफ़ लाए हैं और वह हौज़-ए-कौसर के ठंडे पानी (आब-ए-कौसर) से उम्मतियों के दिलों की प्यास बुझाते जाएंगे।

आफ़्ताब उन का ही चमकेगा जब औरों के चिराग़

सर्सरजोशबला से झिलमिलाते जाएँगे

तशरीह: जब महशर की हौलनाकी और मुसीबत की तेज़ हवा (सर्सर) चलेगी और बड़े-बड़ों के चिराग़ झिलमिलाकर बुझ रहे होंगे, उस वक़्त भी सिर्फ़ और सिर्फ़ मेरे आक़ा ﷺ की अज़मत और शफ़ाअत का सूरज (आफ़्ताब) पूरी आबो-ताब के साथ चमक रहा होगा।

पाए कूबँ पुल से गुज़रेंगे तिरी आवाज़ पर

रब्बसल्लिम की सदा पर वज्द लाते जाएँगे

तशरीह: जब उम्मती पुल-सिरात से गुज़र रहे होंगे, तो आक़ा ﷺ की उम्मत के लिए तड़प और “रब्ब-ए-सल्लिम” (ऐ रब! इन्हें सलामत गुज़ार दे) की आवाज़ सुनकर उम्मती ख़ुशी से झूमते और वज्द करते हुए आसानी से पुल-सिरात पार कर जाएंगे।

सरवरदीन लीजे अपने नातवानों की ख़बर

नफ़्स शैताँ सय्यदा कब तक दबाते जाएँगे

तशरीह: यहाँ आला हज़रत इल्तिजा (फ़रियाद) पेश करते हैं कि ऐ दीन के मालिक व सरवर! अपने इन कमज़ोर और नातवान उम्मतियों की ख़बर लीजिए। यह नफ़्स और शैतान हमें आख़िर कब तक गुमराह करते रहेंगे? अब आप ही हमारी दस्तगीरी (मदद) फ़रमाइए।

हशर तक डालेंगे हम पैदाइशमौला की धूम

मिस्लफ़ारिस नज्द के क़िले गिराते जाएँगे

तशरीह: हम दुनिया में सुबह-ए-क़यामत तक अपने मौला ﷺ की विलादत (मीलाद) की धूम मचाते रहेंगे, और जिस तरह इस्लाम के आने पर फ़ारस (ईरान) के कुफ़्र के महल गिर गए थे, उसी तरह हम अपने इश्क़ की ताक़त से गुस्ताख़ों और बदअक़ीदा लोगों के वैचारिक क़िले गिराते जाएंगे।

ख़ाक हो जाएँगे अदू जल कर मगर हम तो रज़ा

दम में जब तक दम है ज़िक्र उन का सुनाते जाएँगे

तशरीह: मक़्ते (आख़िरी शेर) में आला हज़रत अपने पक्के इरादे का इज़हार करते हुए कहते हैं कि आक़า ﷺ के दुश्मन (अदू) चाहे जलन की आग में जलकर ख़ाक हो जाएं, हमें उनकी कोई परवाह नहीं है। ऐ रज़ा! जब तक हमारे जिस्म में आख़िरी सांस बाकी है, हम अपने प्यारे आक़ा ﷺ की नातें और उनका ज़िक्र-ए-ख़ैर दुनिया को सुनाते ही जाएंगे।

Previous Post
Next Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *