یہ بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا بے حد مشہور، مقبول اور وجد آفرین نعتیہ کلام ہے۔ اس کلام کا مرکزی موضوع “عظمتِ مدینہ اور کعبہ و مدینہ کا دلنشین موازنہ” ہے۔ اعلیٰ حضرت حاجیوں کو مکہ مکرمہ میں مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ حاضری کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کعبہ تو دیکھ لیا، اب کعبے کی اصل جان یعنی میرے آقا ﷺ کا روضہ دیکھو۔
آپ کی ویب سائٹ کے لیے اس کلام کا مکمل فارمیٹ (تینوں زبانوں میں) اور تفصیلی تشریح نیچے پیش ہے:
Hajiyo Aao Shahenshah Ka Roza Dekho Lyrics in Roman Hindi
Hajiyo aao shahenshah ka roza dekho Kaba to dekh chuke kabe ka kaba dekho
Rukn-e-shami se miti wahshat-e-shaam-e-gurbat Ab Madine ko chalo subah-e-dil-aara dekho
Aab-e-zamzam to piya khoob bujhayin pyasein Aao jood-e-shah-e-kausar ka bhi darya dekho
Zair-e-meezab mile khoob karam ke chhente Abr-e-rahmat ka yahan zor barasna dekho
Dhoom dekhi hai dar-e-kaba pe betabon ki Un ke mushtaqon mein hasrat ka tadapna dekho
Misl-e-parwana phira karte the jis shama ke gird Apni us shama ko parwana yahan ka dekho
Khoob aankhon se lagaya hai gilaf-e-kaba Qasr-e-mahboob ke parde ka bhi jalwa dekho
Waan muteeon ka jigar khauf se paani paya Yaan siyah-kaaron ka daaman pe machalna dekho
Awwaleen khana-e-haq ki to ziyayein dekhein Aakhireen bait-e-nabi ka bhi tajalla dekho
Zeenat-e-kaba mein tha lakh arooson ka banao Jalwa farma yahan kaunain ka dulha dekho
Aiman-e-toor ka tha rukn-e-yamani mein furogh Shola-e-toor yahan anjuman aara dekho
Mehr-e-maadar ka maza deti hai aaghosh-e-hateem Jin pe maan baap fida yaan karam un ka dekho
Arz-e-hajat mein raha kaba kafeel-e-injaah Aao ab daad rasi-e-shah-e-taiba dekho
Dho chuka zulmat-e-dil bosa-e-sang-e-aswad Khaak boosi-e-madina ka bhi rutba dekho
Kar chuki rifat-e-kaba pe nazar parwazein Topi ab thaam ke khaak-e-dar-e-wala dekho
Be-niyazi se wahan kaanpti payi taat Josh-e-rahmat pe yahan naaz gunah ka dekho
Juma-e-makka tha eed ahl-e-ibadat ke liye Mujrimo! aao yahan eed-e-dushanba dekho
Multazam se to gale lag ke nikale arman Adab o shauq ka yaan baaham ulajna dekho
Khoob mas-aa mein ba-umeed-e-safa daud liye Rah-e-jaanan ki safa ka bhi tamasha dekho
Raqs-e-bismil ki baharein to mina mein dekhein Dil-e-khoonnabah fishan ka bhi tadapna dekho
Gaur se sun to Raza kaba se aati hai sada Meri aankhon se mire pyare ka roza dekho
2. Hajiyo Aao Shahenshah Ka Roza Dekho Lyrics in Hindi (हिंदी)
हाजियो! आओ शहंशाह का रौज़ा देखो काबा तो देख चुके काबे का काबा देखो
रुकन-ए-शामी से मिटी वहशत-ए-शाम-ए-ग़ुरबत अब मदीना को चलो सुबह-ए-दिल-आरा देखो
आब-ए-ज़मज़म तो पिया ख़ूब बुझाईं प्यासें आओ जूद-ए-शह-ए-कौसर का भी दरिया देखो
ज़ेर-ए-मीज़ाब मिले ख़ूब करम के छींटें अब्र-ए-रहमत का यहाँ ज़ोर बरसना देखो
धूम देखी है दर-ए-काबा पे बेताबों की उन के मुश्ताक़ों में हसरत का तड़पना देखो
मिस्ल-ए-परवाना फिरा करते थे जिस शमा के गिर्द अपनी उस शमा को परवाना यहाँ का देखो
ख़ूब आँखों से लगाया है ग़िलाफ़-ए-काबा क़स्र-ए-महबूब के पर्दे का भी जल्वा देखो
वाँ मुतीओं का जिगर ख़ौफ़ से पानी पाया याँ सियह-कारों का दामन पे मचलना देखो
अव्वलीन ख़ाना-ए-हक़ की तो ज़ियाएँ देखीं आख़िरीन बैत-ए-नबी का भी तजल्ला देखो
ज़ीनत-ए-काबा में था लाख अरूसों का बनाओ जल्वा फ़रमा यहाँ कौनैन का दूल्हा देखो
ऐमन-ए-तूर का था रुकन-ए-यमनी में फ़रोग़ शोला-ए-तूर यहाँ अंजुमन आरा देखो
मेहर-ए-मादर का मज़ा देती है आगोश-ए-हतीम जिन पे माँ बाप फ़िदा याँ करम उन का देखो
अर्ज़-ए-हाजत में रहा काबा कफ़ील-ए-इंजाह आओ अब दाद रसी-ए-शह-ए-तैबा देखो
धो चुका ज़ुल्मत-ए-दिल बोसा-ए-संग-ए-अस्वद ख़ाक बूसी-ए-मदीना का भी रुत्बा देखो
कर चुकी रफ़अत-ए-काबा पे नज़र परवाज़ें टोपी अब थाम के ख़ाक-ए-दर-ए-वाला देखो
बे-नियाज़ी से वहाँ काँपती पाई ताअत जोश-ए-रहमत पे यहाँ नाज़ गुनाह का देखो
जुमा-ए-मक्का था ईद अहल-ए-इबादत के लिए मुजरिमो! आओ यहाँ ईद-ए-दोशन्बा देखो
मुल्तज़म से तो गले लग के निकाले अरमाँ अदब ओ शौक़ का याँ बाहम उलझना देखो
ख़ूब मस्आ में ब-उम्मीद-ए-सफ़ा दौड़ लिए रह-ए-जानाँ की सफ़ा का भी तमाशा देखो
रक़्स-ए-बिस्मिल की बहारें तो मिना में देखीं दिल-ए-ख़ून्नाबा फ़िशाँ का भी तड़पना देखो
ग़ौर से सुन तो रज़ा काबा से आती है सदा मेरी आँखों से मिरे प्यारे का रौज़ा देखो
Hajiyo Aao Shahenshah Ka Roza Dekho Lyrics in Urdu
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو
رُکنِ شامی سے مِٹی وحشت شامِ غربت اب مَدینہ کو چلو صبحِ دِل آرا دیکھو
آبِ زمزم تو پِیا خُوب بجھائیں پیاسیں آؤ جُودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو
زیرِ میزاب مِلے خوب کرم کے چھینٹے ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو
دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو
مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد اپنی اُس شمع کو پَروانہ یہاں کا دیکھو
خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا یاں سِیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں آخریں بَیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو
زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناوٗ جلوہ فرما یہاں کونین کا دُولہا دیکھو
ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ شعلۂ طُور یہاں انجمن آرا دیکھو
مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو
عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیلِ انجاح آاوٗ اب داد رسیِ شہِ طیبہ دیکھو
دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد خاک بوسیِ مدینہ کا بھی رُتبہ دیکھو
کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں ٹوپی اب تھام کے خاکِ درِ والا دیکھو
بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت جوشِ رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو
جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے مجرمو! آاوٗ یہاں عیدِ دوشنبہ دیکھو
ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں ادب و شوق کا یاں باہم اُلجھنا دیکھو
خوب مسعٰے میں بامیدِ صفا دوڑ لیے رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو
رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں دلِ خوننابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو
غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو
Hajiyo Aao Shahenshah Ka Roza Dekho Lyrics in Urdu
1۔ حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو / کعبہ تو دیکھ چکے کعبَہ کا کعبَہ دیکھو
تشریح: اعلیٰ حضرت حج کی ادائیگی کے بعد حاجیوں کو دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے گھر کی زیارت کرنے والو! تم نے کعبہ (اللہ کا گھر) تو دیکھ لیا، اب اس کعبہ کو کعبہ بنانے والے، یعنی شہنشاہِ کونین ﷺ کا روضہِ انور بھی دیکھو، کیونکہ کعبے کی تمام تر رونق حضور ﷺ ہی کے صدقے ہے۔
2۔ رُکنِ شامی سے مِٹی وحشتِ شامِ غربت / اب مَدینہ کو چلو صبحِ دِل آرا دیکھو
تشریح: کعبہ شریف کے رکنِ شامی پر جا کر مسافروں اور غریبوں کی تنہائی کی وحشت تو دور ہو گئی، لیکن اب دل کو سچا سکون دینے کے لیے مدینہ منورہ چلو اور وہاں کی دلوں کو روشن کرنے والی صبح کا نظارہ کرو۔
3۔ آبِ زمزم تو پِیا خُوب بجھائیں پیاسیں / آؤ جُودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو
تشریح: مکہ معظمہ میں تم نے زمزم کا متبرک پانی پی کر اپنی جسمانی پیاس تو خوب بجھا لی، اب مدینہ منورہ آؤ اور ساقیِ کوثر ﷺ کی سخاوت (جود) کا وہ دریا دیکھو جو امتیوں کی روحانی اور اخروی پیاس بجھاتا ہے۔
4۔ زیرِ میزاب مِلے خوب کرم کے چھینٹے / ابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو
تشریح: کعبہ میں میزابِ رحمت (سونے کے پرنالے) کے نیچے تمہیں اللہ کے کرم کی بوندیں اور چھینٹے نصیب ہوئے، لیکن مدینہ منورہ کی یہ شان ہے کہ یہاں رحمت کی صرف بوندیں نہیں بلکہ رحمت کا بادل (ابرِ رحمت) ہر وقت زور و شور سے برستا رہتا ہے۔
5۔ دُھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی / اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو
تشریح: تم نے کعبہ کے دروازے پر بیتاب عاشقوں اور زائرین کا ہجوم اور دھوم دیکھی ہے، اب مدینہ منورہ آ کر حضور ﷺ کے دیدار کے مشتاقوں کی حسرت اور ان کے دلوں کی تڑپ کا ایک الگ ہی عالم دیکھو۔
6۔ مِثلِ پروانہ پِھرا کرتے تھے جس شمع کے گِرد / اپنی اُس شمع کو پَروانہ یہاں کا دیکھو
تشریح: مکہ میں تم کعبہ کو شمع مان کر اس کے گرد پروانوں کی طرح طواف کر رہے تھے (گِرد پھر رہے تھے)۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کعبہ خود میرے آقا ﷺ کے روضہِ انور کی شمع کا پروانہ بنا ہوا نظر آتا ہے۔
7۔ خُوب آنکھوں سے لگایا ہے غلافِ کعبہ / قصرِ محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
تشریح: تم نے کعبہ شریف کے سیاہ غلاف کو چوم کر اپنی آنکھوں سے خوب لگایا، اب مدینہ منورہ آ کر محبوبِ خدا ﷺ کے محل (قصرِ محبوب) کی جالیوں اور پردوں کا ایمان افروز جلوہ بھی دیکھو۔
8۔ واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا / یاں سِیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
تشریح: کعبہ کی شان جلال کی ہے، وہاں بڑے بڑے عبادت گزار اور فرمانبردار (مطیع) لوگ بھی اللہ کے خوف و جلال سے کانپتے ہیں اور ان کا جگر پانی ہوتا ہے۔ جبکہ مدینہ منورہ جمال کا مرکز ہے، یہاں ہم جیسے گناہ گار اور سیاہ کار بھی آقا ﷺ کے دامنِ رحمت پر لاڈ سے مچلتے ہیں۔
9۔ اوّلیں خانۂ حق کی تو ضِیائیں دیکھیں / آخریں بَیتِ نبی کا بھی تجلّا دیکھو
تشریح: تم نے دنیا میں سب سے پہلے بنائے گئے اللہ کے گھر (کعبہ) کا نور اور ضیائیں دیکھ لیں، اب آخری نبی ﷺ کے روضہِ مبارک کی بے مثال تجلی اور چمک کا نظارہ بھی کر لو۔
10۔ زِینتِ کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناوٗ / جلوہ فرما یہاں کونین کا دُولہا دیکھو
تشریح: کعبہ شریف کی خوبصورتی اور اس کی زینت ایسی دلکش تھی جیسے لاکھوں دلہنوں (عروسوں) کا سنگھار ہو، لیکن مدینہ منورہ میں آ کر دیکھو کہ یہاں دونوں جہانوں کے دولہا، یعنی جنابِ محمد مصطفیٰ ﷺ خود جلوہ گر ہیں۔
11۔ ایمنِ طُور کا تھا رُکنِ یمانی میں فروغ / شعلۂ طُور یہاں انجمن آرا دیکھو
تشریح: کعبہ کے رکنِ یمانی میں وادیِ ایمن اور کوہِ طور کے نور کی جھلک نظر آتی ہے، لیکن مدینہ کی گلیوں اور روضہِ انور پر وہ اصل شعلہِ طور (حضور ﷺ کا نور) پوری محفل کو سجائے اور روشن کیے ہوئے ہے۔
12۔ مہرِ مادر کا مزہ دیتی ہے آغوشِ حطیم / جن پہ ماں باپ فدا یاں کرم ان کا دیکھو
تشریح: کعبہ کا حطیم کا حصہ ایسا پرسکون ہے جیسے ماں کی گود (مہرِ مادر) کی محبت و مامتا ہو۔ لیکن مدینے والے آقا ﷺ کی بارگاہ کا کرم دیکھو، جن کی رحمت ماں باپ سے بڑھ کر ہے اور جن پر ہم اپنے ماں باپ قربان کرتے ہیں۔
13۔ عرضِ حاجت میں رہا کعبہ کفیلِ انجاح / آاوٗ اب داد رسیِ شہِ طیبہ دیکھو
تشریح: کعبہ میں دعائیں مانگنے پر حاجات کے پورا ہونے کی ضمانت (کفیلِ انجاح) ملتی ہے، اب مدینہ طیبہ آؤ اور دیکھو کہ کس طرح دکھیوں کے والی ﷺ خود اپنے امتیوں کی فریاد سنتے اور ان کی داد رسی (مدد) فرماتے ہیں۔
14۔ دھو چکا ظلمتِ دل بوسۂ سنگِ اَسْوَد / خاک بوسیِ مدینہ کا بھی رُتبہ دیکھو
تشریح: حجرِ اسود (سنگِ اسود) کو چومنے سے تمہارے دلوں کا اندھیرا اور گناہ دھل گئے، اب مدینہ منورہ کی گلیوں کی خاک کو چومنے (خاک بوسی) کا رتبہ بھی دیکھو، جو آنکھوں کا سرمہ اور شفا ہے۔
15۔ کر چکی رفعتِ کعبَہ پہ نظر پَروازیں / ٹوپی اب تھام کے خاکِ درِ والا دیکھو
تشریح: کعبہ کی اونچائی اور رفعت اتنی بلند ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے نظریں اوپر اٹھانی پڑتی ہیں۔ لیکن جب مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کے درِ اقدس پر آؤ، تو اتنی عظمت و ہیبت ہے کہ اپنی ٹوپی سنبھال کر اس بلند و بالا بارگاہ کی خاک کو جھک کر دیکھو۔
16۔ بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت / جوشِ رحمت پہ یہاں ناز گنہ کا دیکھو
تشریح: مکہ پاک میں اللہ کی بے نیازی کا عالم ہے کہ وہاں نیک لوگ بھی اپنی عبادتوں پر ڈرتے ہیں، جبکہ مدینہ پاک میں آقا ﷺ کی رحمت اس جوش پر ہوتی ہے کہ گناہ گار بھی مغفرت کی امید پر ناز کرتے ہیں۔
17۔ جمعۂ مکہ تھا عید اہلِ عبادت کے لئے / مجرمو! آاوٗ یہاں عیدِ دوشنبہ دیکھو
تشریح: مکہ معظمہ کا جمعہ کا دن عبادت گزاروں کے لیے عید کی طرح برکت والا ہے، لیکن اے گناہ گاروں اور مجرموں! مدینہ منورہ آؤ اور پیر (دوشنبہ) کے دن کی عید دیکھو، کیونکہ اسی پیر کے دن کائنات کے نجات دہندہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی تھی۔
18۔ ملتزم سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں / ادب و شوق کا یاں باہم اُلجھنا دیکھو
تشریح: کعبہ کی دیوار ‘ملتزم’ سے لپٹ کر تم نے رو رو کر اپنے دل کے ارمان نکال لیے، اب مدینہ شریف کی سنہری جالیوں کے سامنے آؤ جہاں ایک طرف آگے بڑھنے کا شوق ہے اور دوسری طرف ادب کا تقاضا ہے کہ قدم آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ ادب اور شوق کی یہ کشمکش دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔
19۔ خوب مسعٰے میں بامیدِ صفا دوڑ لیے / رہِ جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو
تشریح: صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان (مسعیٰ میں) تم نے صفاِ قلب کی امید میں خوب دوڑ لگا لی (سعی کر لی)، اب مدینہ منورہ میں اپنے پیارے محبوب ﷺ کی گلی کی پاکیزگی اور صفا کا تماشا بھی دیکھو۔
20۔ رقصِ بِسمل کی بہاریں تو مِنٰی میں دیکھیں / دلِ خوننابہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو
تشریح: منیٰ کے میدان میں تم نے قربانی کے جانوروں کو تڑپتے (رقصِ بسمل) دیکھا، اب مدینہ پاک کی گلیوں میں آؤ اور حضور ﷺ کے عشق میں تڑپنے والے عاشقوں کے خون کے آنسو بہانے والے دلوں کی تڑپ کا نظارہ کرو۔
21۔ غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صَدا / میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو
تشریح: مقطع میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ اے رضا! ذرا دل کے کانوں سے غور سے سنو، خود کعبہ شریف سے یہ آواز (صدا) آ رہی ہے کہ اے حاجیوں! اگر تم میری حقیقی خوبصورتی اور رونق دیکھنا چاہتے ہو، تو میری آنکھوں سے (یعنی میری سمت سے ہو کر) میرے پیارے محبوب مصطفیٰ ﷺ کا روضہِ انور دیکھو۔
Complete Naat Ki Tashrih in hindi
यहाँ आला हज़रत इमाम अहमद रज़ा ख़ान बरेलवी अलैहिर्रहमा के इस मुक़द्दस कलाम “حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو” की मुकम्मल तशरीफ़ (विस्तृत व्याख्या) हिंदी में पेश है, जिसे आप अपने ब्लॉग के लिए सीधे इस्तेमाल कर सकते हैं:
हाजियो! आओ शहंशाह का रौज़ा देखो
काबा तो देख चुके काबे का काबा देखो
तशरीह: आला हज़रत हज की अदायगी के बाद हाजियों को मदीना मुनव्वरा आने की पुरज़ोर दावत देते हुए फ़रमाते हैं कि ऐ अल्लाह के घर की ज़ियारत करने वालो! तुमने काबा (अल्लाह का घर) तो देख लिया, अब उस काबा को भी काबा बनाने वाले, यानी दोनों जहानों के शहंशाह ﷺ का रौज़ा–ए–अनवर भी देखो, क्योंकि काबे की सारी रौनक और अज़मत हुज़ूर ﷺ ही के सदक़े में है।
रुकन–ए–शामी से मिटी वहशत–ए–शाम–ए–ग़ुरबत
अब मदीना को चलो सुबह–ए–दिल–आरा देखो
तशरीह: काबा शरीफ़ के ‘रुकन–ए–शामी‘ (एक कोना) पर जाकर मुसाफ़िरों और परदेसियों की तन्हाई का डर और वहशत तो दूर हो गई, लेकिन अब दिल को सच्चा और मुकम्मल सुकून देने के लिए मदीना शरीफ़ चलो और वहाँ की दिलों को रौशन करने वाली ख़ूबसूरत सुबह का नज़ारा करो।
आब–ए–ज़मज़म तो पिया ख़ूब बुझाईं प्यासें
आओ जूद–ए–शह–ए–कौसर का भी दरिया देखो
तशरीह: मक्का मुअज़्ज़मा में तुमने ज़मज़म का मुक़द्दस पानी पीकर अपनी जिस्मानी प्यास तो ख़ूब बुझा ली, अब ज़रा मदीना शरीफ़ आओ और साक़ी–ए–कौसर ﷺ की सख़ावत (जूद) का वह समंदर और दरिया देखो जो उम्मतियों की रूहानी और आख़िरत की प्यास बुझाता है।
ज़ेर–ए–मीज़ाब मिले ख़ूब करम के छींटें
अब्र–ए–रहमत का यहाँ ज़ोर बरसना देखो
तशरीह: काबा में मीज़ाब–ए–रहमत (सोने के परनाले) के नीचे तुम्हें अल्लाह के करम और रहमत की बूँदें और छींटे नसीब हुए, लेकिन मदीना मुनव्वरा की यह शान है कि यहाँ रहमत की सिर्फ़ बूँदें नहीं बल्कि रहमत का बादल (अब्र–ए–रहमत) हर वक़्त ज़ोर–ओ–शोर से बरसता रहता है।
धूम देखी है दर–ए–काबा पे बेताबों की
उन के मुश्ताक़ों में हसरत का तड़पना देखो
तशरीह: तुमने काबा के दरवाज़े पर बेक़रार आशिकों और ज़ायरीन का हुजूम और उनकी धूम देखी है, अब मदीना मुनव्वरा आकर हुज़ूर ﷺ के दीदार के चाहने वालों (मुश्ताक़ों) की हसरत और उनके दिलों की तड़प का एक अलग ही रूहानी आलम देखो।
मिस्ल–ए–परवाना फिरा करते थे जिस शमा के गिर्द
अपनी उस शमा को परवाना यहाँ का देखो
तशरीह: मक्का में तुम काबा को शमा मानकर उसके चारों तरफ़ परवानों की तरह तवाफ़ कर रहे थे (चक्कर काट रहे थे)। लेकिन हक़ीक़त यह है कि वह काबा ख़ुद मेरे आक़ा ﷺ के रौज़ा–ए–अनवर की शमा का परवाना बना हुआ नज़र आता है।
ख़ूब आँखों से लगाया है ग़िलाफ़–ए–काबा
क़स्र–ए–महबूब के पर्दे का भी जल्वा देखो
तशरीह: तुमने काबा शरीफ़ के काले ग़िलाफ़ को चूम कर और गले लगाकर अपनी आँखों से ख़ूब लगाया, अब मदीना मुनव्वरा आकर महबूब–ए–ख़ुदा ﷺ के महल (क़स्र–ए–महबूब) की सुनहरी जालियों और पर्दों का ईमान अफ़रोज़ जल्वा भी देखो।
वाँ मुतीओं का जिगर ख़ौफ़ से पानी पाया
याँ सियह–कारों का दामन पे मचलना देखो
तशरीह: काबा की शान जलाल (डर/अदब) की है, वहाँ बड़े–बड़े इबादतगुज़ार और फ़रमांबरदार (मुतीओं) लोग भी अल्लाह के ख़ौफ़–ओ–जलाल से काँपते हैं। जबकि मदीना मुनव्वरा जमाल (रहमत) का केंद्र है, यहाँ हम जैसे गुनहगार और सियाह–कार (सियह–कारों) भी आक़ा ﷺ के दामन–ए–रहमत पर लाड से मचलते हैं कि आक़ा हमारी बख़्शिश करा देंगे।
अव्वलीन ख़ाना–ए–हक़ की तो ज़ियाएँ देखीं
आख़िरीन बैत–ए–नबी का भी तजल्ला देखो
तशरीह: तुमने दुनिया में सबसे पहले बनाए गए अल्लाह के घर (काबा) का नूर और उसकी चमक (ज़ियाएँ) देख लीं, अब आख़िरी नबी ﷺ के रौज़ा–ए–मुबारक की बेमिसाल तजल्ली और दिव्य प्रकाश का नज़ारा भी कर लो।
ज़ीनत–ए–काबा में था लाख अरूसों का बनाओ
जल्वा फ़रमा यहाँ कौनैन का दूल्हा देखो
तशरीह: काबा शरीफ़ की ख़ूबसूरती और उसकी सजावट ऐसी दिलकश थी जैसे लाखों दुल्हनों (अरूसों) का शृंगार हो, लेकिन मदीना मुनव्वरा में आकर देखो कि यहाँ किसी दुल्हन का नहीं, बल्कि दोनों जहानों के दूल्हा, यानी जनाब–ए–मुहम्मद मुस्तफ़ा ﷺ का साक्षात जल्वा है।
ऐमन–ए–तूर का था रुकन–ए–यमनी में फ़रोग़
शोला–ए–तूर यहाँ अंजुमन आरा देखो
तशरीह: काबा के ‘रुकन–ए–यमनी‘ में वादी–ए–ऐमन और कोह–ए–तूर के नूर की झलक नज़र आती है, लेकिन मदीना की गलियों और रौज़ा–ए–अनवर पर वह असल शोला–ए–तूर (हुज़ूर ﷺ का नूर) पूरी महफ़िल को सजाए और रौशन किए हुए है।
मेहर–ए–मादर का मज़ा देती है आगोश–ए–हतीम
जिन पे माँ बाप फ़िदा याँ करम उन का देखो
तशरीह: काबा का ‘हतीम‘ का हिस्सा ऐसा परसुकून है जैसे माँ की गोद (मेहर–ए–मादर) की ममता हो। लेकिन मदीने वाले आक़ा ﷺ की बारगाह का करम देखो, जिनकी रहमत माँ–बाप से भी कहीं बढ़कर है और जिन पर हम अपने माँ–बाप को क़ुर्बान करते हैं।
अर्ज़–ए–हाजत में रहा काबा कफ़ील–ए–इंजाह
आओ अब दाद रसी–ए–शह–ए–तैबा देखो
तशरीह: काबा में दुआएँ माँगने पर ज़रूरतों और हाजतों के पूरा होने की ज़मानत (कफ़ील–ए–इंजाह) मिलती है, अब मदीना तैबा आओ और देखो कि किस तरह दुखियों के वाली ﷺ ख़ुद अपने उम्मतियों की फ़रियाद सुनते और उनकी इमदाद (दाद रसी) फ़रमाते हैं।
धो चुका ज़ुल्मत–ए–दिल बोसा–ए–संग–ए–अस्वद
ख़ाक बूसी–ए–मदीना का भी रुत्बा देखो
तशरीह: हजर–ए–अस्वद (संग–ए–अस्वद) को चूमने से तुम्हारे दिलों का अँधेरा और गुनाह धुल गए, अब मदीना मुनव्वरा की गलियों की ख़ाक को चूमने (ख़ाक बूसी) का रुत्बा भी देखो, जो आँखों का सूरमा और हर बीमारी की शिफ़ा है।
कर चुकी रफ़अत–ए–काबा पे नज़र परवाज़ें
टोपी अब थाम के ख़ाक–ए–दर–ए–वाला देखो
तशरीह: काबा की ऊँचाई और रफ़अत इतनी बुलंद है कि उसे देखने के लिए नज़रें ऊपर उठानी पड़ती हैं। लेकिन जब मदीना मुनव्वरा में हुज़ूर ﷺ के दर–ए–अक़्दस पर आओ, तो यहाँ इतनी अज़मत और अदब की हीबत है कि अपनी टोपी सँभाल कर इस बुलंद बारगाह की ख़ाक को अदब से सिर झुकाकर देखो।
बे–नियाज़ी से वहाँ काँपती पाई ताअत
जोश–ए–रहमत पे यहाँ नाज़ गुनाह का देखो
तशरीह: मक्का पाक में अल्लाह की बे–नियाज़ी का आलम है कि वहाँ बड़े–बड़े नेकोकार भी अपनी इबादतों पर डरते हैं, जबकि मदीना पाक में आक़ा ﷺ की रहमत इस जोश पर होती है कि गुनहगार भी माफ़ी की उम्मीद पर नाज़ करते हैं।
जुमा–ए–मक्का था ईद अहल–ए–इबादत के लिए
मुजरिमो! आओ यहाँ ईद–ए–दोशन्बा देखो
तशरीह: मक्का मुअज़्ज़मा का जुमा का दिन इबादतगुज़ारों के लिए ईद की तरह बरकत वाला है, लेकिन ऐ गुनहगारों और मुजरिमों! मदीना मुनव्वरा आओ और पीर (दोशन्बा) के दिन की ईद देखो, क्योंकि इसी पीर के दिन सारी कायनात को बचाने वाले हुज़ूर ﷺ की विलादत (पैदाइश) हुई थी।
मुल्तज़म से तो गले लग के निकाले अरमाँ
अदब ओ शौक़ का याँ बाहम उलझना देखो
तशरीह: काबा की दीवार ‘मुल्तज़म‘ से लिपट कर तुमने रो–रो कर अपने दिल के अरमान निकाल लिए, अब मदीना शरीफ़ की सुनहरी जालियों के सामने आओ जहाँ एक तरफ़ आगे बढ़ने का शौक़ है और दूसरी तरफ़ अदब का तकाज़ा है जो क़दम आगे बढ़ने नहीं देता। अदब और शौक़ की यह कशमकश देखने के लायक़ होती है।
ख़ूब मस्आ में ब–उम्मीद–ए–सफ़ा दौड़ लिए
रह–ए–जानाँ की सफ़ा का भी तमाशा देखो
तशरीह: सफ़ा और मरवा की पहाड़ियों के दरमियान (मस्आ में) तुमने दिल की सफ़ाई (पाकीज़गी) की उम्मीद में ख़ूब दौड़ लगा ली, अब मदीना मुनव्वरा में अपने प्यारे महबूब ﷺ की गली (रह–ए–जानाँ) की पाकीज़गी और सफ़ा का तमाशा भी देखो।
रक़्स–ए–बिस्मिल की बहारें तो मिना में देखीं
दिल–ए–ख़ून्नाबा फ़िशाँ का भी तड़पना देखो
तशरीह: मिना के मैदान में तुमने क़ुर्बानी के जानवरों को तड़पते (रक़्स–ए–बिस्मिल) देखा, अब मदीना पाक की गलियों में आओ और हुज़ूर ﷺ के इश्क़ में तड़पने वाले आशिकों के ख़ून के आँसू बहाने वाले दिलों की तड़प का नज़ारा करो।
ग़ौर से सुन तो रज़ा काबा से आती है सदा
मेरी आँखों से मिरे प्यारे का रौज़ा देखो
तशरीह: मक़्ते (आख़िरी शेर) में आला हज़रत फ़रमाते हैं कि ऐ रज़ा! ज़रा दिल के कानों से ग़ौर से सुनो, ख़ुद काबा शरीफ़ से यह आवाज़ (सदा) आ रही है कि ऐ हाजियों! अगर तुम मेरी हक़ीक़ी ख़ूबसूरती और रूहानियत देखना चाहते हो, तो मेरी आँखों से (यानी मेरी दिशा से होकर) मेरे प्यारे महबूब मुस्तफ़ा ﷺ का रौज़ा–ए–अनवर देखो।



